Search This Blog
we are posted to different technology updated of everyday, so you are updated the new technology.
Featured
- Get link
- X
- Other Apps
جونا گڑھ کو پاکستان کے نئے ’سیاسی نقشے‘ میں شامل کرنے سے پاکستان کو کیا حاصل ہو سکتا ہے؟
پاکستان سے الحاق کے اعلان کے بعد ریاست جونا گڑھ سے جاری ہونے والا پوسٹل ٹکٹ (فائل فوٹو)
حکومتِ پاکستان نے گذشتہ دنوں پاکستان کا نیا ’سیاسی نقشہ‘ جاری کیا ہے جس کی رونمائی وزیر اعظم عمران خان نے خود کی ہے۔
سیاسی نقشے پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو پاکستان کا علاقہ دکھایا گیا ہے اور اس پر یہ تحریر درج ہے کہ ’یہ متنازع علاقہ ہے جس پر انڈیا نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔‘
اس تحریر کے ساتھ ہی یہ بھی درج ہے کہ ’اس (مسئلے) کا تصفیہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی سفارشات کی روشنی‘ میں ہونا ہے۔
اس نقشے میں گلگت بلتستان کو بھی واضح طور ہر پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
ایک اور علاقہ جس کی تقسیم پر کئی دہائیوں سے تنازع چل رہا ہے وہ سر کریک ہے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ اور انڈیا کی ریاست گجرات کے درمیان بہتی یہ ایک ایسی کھاڑی ہے جو بحیرہ عرب میں گرتی ہے۔
تقسیم کے بعد ہی سے مسئلہ یہ چلا آ رہا ہے کہ اس کھاڑی کی کتنی حدود کس ملک کے اندر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کا کہنا ہے کہ سر کریک کی کھاڑی پوری اس کی سرحد کے اندر واقع ہے تاہم انڈیا اس دعویٰ کو نہیں مانتا اور یہی وجہ ہے یہاں سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے ماہی گیروں کی کشتیاں پکڑتے رہتے ہیں۔
پاکستان کے نئے سیاسی نقشے میں اس متنازع علاقے علاقے یعنی سر کریک کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
پاکستان نے اس نئے نقشے پر سابق ریاست جونا گڑھ اور مناودر کو بھی اپنا حصہ دکھایا ہے۔ یہ علاقے اب انڈیا کی ریاست گجرات کا حصہ ہیں اور ان کی سرحدیں پاکستان سے نہیں ملتیں۔
کیا جونا گڑھ پاکستان کا نیا علاقہ ہے؟
پاکستان کا مؤقف ہے کہ جونا گڑھ اور مناودر ہمیشہ سے اس کا حصہ تھے کیونکہ جونا گڑھ کے راجا نے تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا مگر انڈیا نے بزورِ طاقت اس ریاست پر اپنا قبضہ جما لیا (فائل فوٹو)
سنہ 1948 کے بعد سے یہ علاقہ انڈیا کے پاس ہے اور یہاں ہندو مذہب کا ایک مقدس مقام ’سومنات کا مندر‘ بھی واقع ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ جونا گڑھ اور مناودر ہمیشہ سے اس کا حصہ تھے کیونکہ جونا گڑھ کے راجا نے تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا مگر انڈیا نے بزورِ طاقت اس ریاست پر اپنا قبضہ جما لیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’جونا گڑھ ہمیشہ سے پاکستان کا حصہ تھا اور نئے نقشے پر پاکستان نے اس کو اپنا حصہ ظاہر کیا ہے، جس کا مقصد اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا نئے نقشے میں ’پاکستان نے کوئی نیا علاقہ اپنے علاقے میں شامل نہیں کیا۔ اس علاقے پر انڈیا نے غیر قانونی قبضہ جمایا تھا اور اس پر کوئی تنازع نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ہمیشہ سے پاکستان کا حصہ ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں بھی جونا گڑھ کو نقشے پر اپنا حصہ دکھاتا رہا ہے تاہم بعد میں کسی وجہ سے پاکستان کے نقشے سے اسے نکال دیا گیا۔ ’ہم اس کو دوبارہ نقشے پر لائے ہیں اور اس کا مقصد اپنے علاقوں کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن واضح کرنا ہے۔‘
- Get link
- X
- Other Apps
Popular Posts
کیا انڈیا نے سعودی عرب کو پاکستان سے چھین لیا ہے؟
- Get link
- X
- Other Apps


Comments
Post a Comment