Skip to main content

Featured

Business Laptop | You need a laptop that can keep up with your work demands. Whether you're running a business

As a professional, you need a laptop that can keep up with your work demands. Whether you're running a business, managing a team, or working remotely, you need a reliable, efficient, and secure device. That's why many professionals turn to business laptops.   Business laptops are designed specifically for the needs of professionals. They offer a range of features and specifications that are geared toward productivity, security, and durability. Here are some of the reasons why a business laptop might be the right choice for you:   Security Features   One of the most important features of a business laptop is its security. Business laptops often come with advanced security features, like biometric sensors for fingerprint recognition, smart card readers, and built-in encryption tools. These features help keep your data safe from theft, hacking, or other security breaches.   Durability   Business laptops are designed to withstand the wear and tea...

کیا انڈیا نے سعودی عرب کو پاکستان سے چھین لیا ہے؟

جمعرات کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پایا، جس کے مطابق اسرائیل مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو الحاق کرنے والے اپنے منصوبوں کو ملتوی کرے گا اور دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گا۔

اب تک اسرائیل کے خلیج کے عرب ممالک سے سفارتی تعلقات نہیں تھے۔ اس معاہدے کا اعلان خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس معاہدے سے فلسطینی رہنما سخت حیران ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے اس معاہدے کے بعد عرب لیگ کا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔

انھیں خدشہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد دیگر خلیجی ممالک کے بھی اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم ہوں گے اور اس کا اثر ’عرب امن معاہدے‘ پر پڑے گا۔

اسرائیل کے زیرِ انتظام غرب اردن کے شہر ہیبرون میں فلسطینی شہری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں

ایک طرح سے ان کی تشویش بھی جائز ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے پر دیگر اسلامی ممالک کا ابتدائی رد عمل ان کے لیے کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ مصر اور اردن نے متحدہ عرب امارات کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

یہ پیش رفت خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دوسرے ممالک کے مابین تعلقات کو متاثر کرے گی جن میں انڈیا بھی شامل ہے۔

اس نئے معاہدے کے ساتھ ہی عالم اسلام میں پولرائزنگ نظر آرہی ہے۔

اسرائیل میں رہنے والے سینئر صحافی ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا کے مسلم ممالک واضح طور پر تین کیمپوں میں منقسم ہیں۔

پہلے کیمپ میں کچھ ممالک ایران کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں جس کا اسرائیل کے بارے میں سخت موقف ہے۔

دوسرے کیمپ کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات لیڈ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ایک تیسرا گروپ ترکی، ملائشیا اور پاکستان کا ہے۔ مجموعی طور پر، اس فیصلے کے بعد عالم اسلام کی تقسیم میں مزید اضافہ ہوگا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل معاہدے کا انڈیا پر کیا اثر پڑے گا؟

 

ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فیصلے کا انڈیا پر کیا اثر پڑے گا۔ ٹائمز آف انڈیا کی سفارتی ایڈیٹر اندرانی باغچی کے مطابق، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات دونوں کے ساتھ انڈیا کے اچھے تعلقات ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی کے حوالے سے اسرائیل اور انڈیا کی سوچ ایک جیسی ہے۔ متحدہ عرب امارات ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ لہذا، اگر یہ دونوں ممالک اکٹھے ہو رہے ہیں تو انڈیا اس کا خیرمقدم کرے گا۔

لیکن کیا ان دونوں ممالک کے اکٹھے ہونے سے پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے والے معاملے پر کوئی اثر پڑے گا؟

اس بارے میں ادرانی کا کہنا ہے ’پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔ لیکن ہم اس حقیقیت سے انکار نہیں کر سکتے کہ اسلامی ممالک پر ہمیشہ پاکستان کا غلبہ رہے گا۔ اسلامی ممالک میں تن تنہا پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے۔ اس وجہ سے، اسلامی ممالک میں اس کا ایک مختلف درجہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اگر آج پاکستان تھوڑا سا الگ تھلگ ہے تو اس کی وجہ خود اور اس کی پالیسیاں ہیں۔

ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ اس سے قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو پاکستان کے ساتھ سمجھا جاتا تھا، لیکن کچھ عرصے سے انڈیا کے ساتھ ان کے تعلقات پاکستان کے مقابلے میں بہت بہتر ہوئے ہیں۔

اس کی مثال کے طور پر انھوں نے گذشتہ سال اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کا ذکر کیا ہے جس میں انڈیا کو خصوصی مبصر کے طور پر بلایا گیا تھا حالانکہ پاکستان ایسا نہیں چاہتا تھا۔ پاکستان اس دعوت کے خلاف تھا لیکن متحدہ عرب امارات نے ان کی ایک نہیں سنی۔

 


Comments

Popular Posts